ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل کی ادھ مری خاتون میں جان آگئی؛ سانپ کاٹنے کے بعد تقریبا مردہ حالت میں پہنچائی گئی تھی سرکاری اسپتال

بھٹکل کی ادھ مری خاتون میں جان آگئی؛ سانپ کاٹنے کے بعد تقریبا مردہ حالت میں پہنچائی گئی تھی سرکاری اسپتال

Wed, 25 Aug 2021 20:01:58    S.O. News Service

بھٹکل 25/ اگست (ایس او نیوز)  خطرناک زہریلا سانپ کاٹنے کے بعد تقریباً  جان سے ہاتھ دھونے والی خاتون میں اُس وقت جان آگئی جب بھٹکل سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں نے   خاتون کو بچانے میں اپنی پوری طاقت جھونک دی۔

بھٹکل آزادنگر سے تعلق رکھنے والی   25 سالہ خاتون جو دو بچوں کی  ماں  بھی ہے،  کو پیر کے دن اچانک ایک سانپ نے ڈس لیا تھا۔  سانپ کےڈستے ہی اُس کے شوہر نے اُسے  فوراً سرکاری اسپتال پہنچایا، جہاں اس کی حالت اتنی نازک تھی کہ جان تقریباً جاچکی تھی۔ لیکن اللہ کا کرم اور ڈاکٹروں کی محنت رنگ لائی اور خاتون  کی جان میں جان آگئی۔

ثمرین قلندر نے ساحل آن لائن کو بتایا کہ وہ پیر 23 اگست کو اپنے گھر کے  آنگن میں  گھاس صاف کررہی تھی کہ اچانک کہیں سے ایک زہریلا سانپ آگیا اور اس کے پیر کو ڈس لیا۔ ڈستے ہی زہر پورے بدن میں اتنی تیزی کےساتھ سرایت کرتاچلا گیا کہ  وہ بے سودھ ہوگئی،  ثمرین کے مطابق وہ تیزی کے ساتھ  موت کے منہ میں جارہی تھی،ایسی حالت میں اس کے شوہر نے اسے  فوراً سرکاری اسپتال پہنچایا۔

سرکاری اسپتال کی انچارج ڈاکٹرسویتا کامتھ نے بتایا کہ  خاتون کو جب اسپتال لایا گیا تھا تو اُس وقت حالت اتنی خراب تھی کہ اس خاتون کا  بچ پانا مشکل نظر آرہا تھا، لیکن   ڈاکٹر لکشمیش، ڈاکٹر سُرکشتھ، ڈاکٹر سبرامنیا سمیت چھ ڈاکٹروں کی ٹیم نے  اس خاتون کو بچانے میں اپنی پوری طاقت جھونک دی۔  اسپتال لاتے ہی اسے  وینٹی لیٹر پر لٹایا گیا، ابتدائی  ایک گھنٹے میں  اسے  چار انجکشن  لگوائے  گئے، پھر وقفے وقفے سے   بارہ گھنٹے  کے اندر جملہ 40 انجکشن دئے گئے۔ نرسنگ اسٹاف میں  ششی کلا اور ارچنا نے بھی پورا تعاون پیش کیا اور آج   بدھ 25 اگست کو خاتون  خطرے سے باہر نکل آئی۔ ڈاکٹر سویتا کامتھ نے بتایا کہ  اسپتال میں  چونکہ  دس بستروں کے ساتھ  وینٹی لیٹرس ہیں، آئی سی یو کی بھی سہولت دستیاب  ہے، اس لئے  خاتون کو بچاپانا ممکن ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل اسپتال میں وینٹی لیٹر کی سہولت نہیں تھی جس کی وجہ سے مریضوں کو کنداپور اور اُڈپی شفٹ کرنا  ضروری  ہوجاتا تھا، اگر اس خاتون کو بھی ایسا کرنا پڑتا تو      راستے میں ہی دم توڑنے کے پورے امکانات تھے، مگر صحیح وقت پر اس کو وینٹی لیٹر  پر لٹایا گیا اور ڈاکٹروں نے  پوری توجہ کے ساتھ علاج کیا،  اس لئے  خاتون کو بچانا  ممکن ہوسکا۔

سرکاری اسپتال کے ماہر ڈاکٹر لکشمیش نے بتایا کہ   جب ایک کوبرا سانپ کسی کو ڈستا ہے تو  زہر اتنی تیز ی کے ساتھ سرایت کرنے لگتا ہے کہ اکثر  ایسوں کو بچاپانا ممکن نہیں ہوتا، لیکن ثمرین کے شوہر نے اسے سانپ ڈسنے کے دس منٹ کے اندر ہی اسپتال پہنچایا تھا جس کی وجہ سے فوراً   وینٹی لیٹر کے ذریعے اس کی ٹوٹتی  سانسوں کو بحال رکھنے کی کوشش کی گئی۔ ڈیوٹی ڈاکٹر سبرامنیا نے بتایا کہ جب خاتون اس کے سامنے لائی گئی تھی تو اس کی صرف دل  کی دھڑکن    چل رہی تھی،جبکہ پورا بدن   ٹھنڈا پڑچکاتھا،   ساتھی  نرسوں نے  حوصلہ دیا اور پوری ٹیم نے مل کر اس کا علاج کیا، جس کی وجہ سے خاتون  بچ گئی۔

ثمرین قلندر اب تقریباً ٹھیک ہوچکی ہے، وینٹی لیٹر ہٹادیا گیا ہے،  اور کل جمعرات کو اسےگھر جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اس موقع پر  خاتون سمیت اس کی والدہ اور شوہر تماموں نے سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا   ہے۔

 


Share: